بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری، میجر جنرل ڈاکر محسن رضائی نے ایران، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے چار ملکی اجلاس کے اختتام پر خطے کی سلامتی اور استحکام کے بارے میں کہا:
- علاقائی تعاون بہت پہلے شروع ہو جانا چاہئے تھا اور ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے اعلیٰ حکام کے دورے سے معلوم ہؤا کہ کہ دنیا کے ممالک امریکی دھمکیوں کے زیر اثر نہیں آئے ہیں۔
- ایرانی قوم کی مزاحمت اور مسلح افواج کی طاقت کے نتیجے میں خطے میں ـ اور ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے اعلیٰ حکام ـ کے ساتھ بات چیت سے ایک نیا اور مثبت ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ ایرانی قوم کی مزاحمت کے نتائج روز بروز زیادہ سے زیادہ نمایاں ہو رہے ہیں۔

- ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے اعلیٰ حکام کا خیال تھا کہ خطے کے مسائل کا حل چاروں ملکوں کے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون میں مضمر ہے۔"
- ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ مغربی ایشیا میں سلامتی درون زاد (Endogenous) ہونی چاہئے اور کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت کا سد باب کرنا چاہئے۔
- اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ صہیونی رجیم کو جنوبی لبنان، جنوبی شام، غزہ اور دریائے اردن کے مغربی کنارے سے پسپا ہونا چاہئے اور جارحیت سے باز آنا چاہئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ